وزیرستان فوجی چوکی پر حملہ،قربانیاں ضائع نہیں ہونے دینگے،آئی ایس پی آر




 ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے  ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں اور حامیوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ صرف چند افراد انہیں اکسا رہے ہیں اور  مذموم  مقاصد کیلئے ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ کسی کو خصوصا دہائیوں پر مشتمل قومی  جدوجہدکے  ثمرات ،خصوصا بہادر قبائلیوں کی قربانیوں کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ اتوار کی صبح شمالی وزیرِستان میں پاکستان فوج اور پختون تحفظ موومنٹ کے اراکین کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ پانچ فوجی اہکار زخمی ہوئے جس کی وجہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی چوکی پر حملہ تھا۔
اس واقعہ کے بعد سے علاقے میں کرفیو کے نفاذ کی بھی اطلاعات ہیں ۔ فون اور انٹرنیٹ سروس میں خلل پڑا ہے۔
آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں قائم خارقمر چیک پوسٹ پر محسن جاوید اور علی وزیر کی قیادت میں ایک گروپ نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی اور تین حملہ آور مارے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں میں سے دس افرا زخمی بھی ہوگئے۔
محسن جاوید اور علی وزیر دونوں کا تعلق پی ٹی ایم سے ہے۔
پی ٹی ایم نے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا کہ آج کے واقعات کی ذمہ دار ان کی تنظیم نہیں ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علی وزیر کو آٹھ دیگر افراد کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا جبکہ ہجوم کو اشتعال انگیزی پر ابھارنے کے بعد محسن جاوید فرار ہوگئے۔
ترجمان نے کہا کہ حملہ آور گروہ، حال ہی میں گرفتارکیے جانے والے مشتبہ دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو رہا کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چیک پوسٹ پر موجود فوجیوں نے اشتعال انگیزی اور پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کے جواب میں برداشت کا مظاہرہ کیا۔
ادھر پی ٹی ایم کی کور کمیٹی کی رکن ثنا اعجاز نے اردو نیوز سے بات کرتے کہا کہ علی وزیر، محسن داوڑ اور چیف آف وزیر ٹرائب ڈاکٹر گل عالم کی سربراہی میں پی ٹی ایم کے رہنما مچا مداخیل میں جاری دھرنے میں شرکت کے لیے جارہے تھے کہ انہیں خڑ قمر چیک پوسٹ پر روکا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیک پوسٹ سے فائرنگ کی گئی جس کے نتجے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ فائرنگ سے محسن داوڑ بھی معمولی زخمی ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق علاقے میں کرفیو کی وجہ سے صورتحال کا مکمل پتہ نہیں چل رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *