ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال میں اضافہ ۔ دبئی میں ڈیجیٹل کرنسی ایکسچیج کا آغاز




دوبئی ( نمائندہ خصوصی ) عالمی معشیت جلد زر کے بجائے ڈیجیٹل کوائن کو بطور کرنسی استعمال کرے گی ۔ زر کا استعمال اور ترسیل موجودہ دور میں سکور نہیں ۔ ڈیجیٹل معشیت میں ڈیجیٹل پروڈیکٹ،ڈیجیٹل سروس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں گے جن کا ڈرائکٹ اثر ہمارے روز مرہ معاملات پہ ہوں گے ۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہمارے معاملات زندگی ہماری سیونگ اور ہمارے اخراجات کے طریقہ کار کو ایک نئے اور مثبت انداز میں ڈیجیٹل بنا دے گا ۔

ڈیجیٹل معشیت کی گروتھ 2025تک 200بلین ڈالر جن میں 2020 تک 05ملین ٹریڈرز ہائی انویسٹ منٹ کے ساتھ منظر عام پہ آئیں گے ۔اس سلسلہ میں دوبئی کے ایک مقامی ہوٹل میں متحدہ عرب امارات دوبئی کی ریاست دوبئی کے ہزایکسیلنسی شیخ سہیل الزرعونی گروپ اور کرپٹو بلز گلوبل کرپٹو کرنسی ایکسنیج کے مابین ایک معاہدہ طٰہ پایا ۔
مسٹر شاشا گبتہ فاؤنڈر کرپٹو بھل ایکسچینج و گلف کوائن گولڈ اور مس مدھو فاؤنڈر کرپٹو بھلز ایکسچینج و گلف کوائن گولڈ نے تمام مہمانوں اور میڈیا ممبران کو ویلکم کیا ۔ مسٹر شاشا گبتہ فاؤنڈر کرپٹو بھلز ایکسچینج و گلف کوائن گولڈ نے کہا کہ ہمارا ویزن بزنس اور ٹریڈ کی دنیا میں نیا انوسٹر لانا اور ان کو پیسے کمانے اور اس پیسے کو سیو کرنے اور پھر اسے بزنس میں بغیر کسی ریسک کے انویسٹ کرنے اور فراڈ اور دھوکہ فجی سے بچانا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے سینٹس میں انویسٹ کر کے ایک اچھا اور سکیور منافع کمانا ہے ۔ 2018 جنوری سے کوائن مارکیٹ کیپ کی ڈیلی ٹرانزگیشن کا عالمی 8.13 بلین ڈالر ہے جو کے آسانی کے ساتھ 650 بیلین ڈالڑ تک جا سکتا ہے ۔

اس ایونٹ کا انقعاد پریلر لائنز میڈیا ھاؤس نے کیا جس کے کواڈنیٹر مس سرتی ، مسٹر ارسلان رحمان ، مسڑ نوساڈ تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزرعونی گروپ کے سی ای او ہائی نیش سہیل محمد ال ظرونی نے کہا متحدہ عرب امارات میں ایک عام اوورسیز اور امارتی میں کوئی فرق نہیں ۔ قانون سب کے لیے مساوی ہے ۔ دنیا میں متحدہ عرب امارت وہ واحد ملک ہے جو ملک میں آنت والے ہر چھوٹے بڑے انوسٹر ،بزنس مین و ٹریڈرز کو ویلکم کرتا ہے اور ٹریڈ و بزنس کے سکور مواقع فراہم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا متحدہ عرب امارات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *